واشنگٹن ، 3 مئی (ایس او نیوز / ایجنسی)امریکہ نے اپنے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو 8.6 ارب ڈالر (تقریباً 81622 کروڑ روپے) سے زائد کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹرمپ حکومت نے اس فیصلے کے لیے پارلیمنٹ کے جائزے کے عمل کو نظر انداز کر دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایمرجنسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ان سودوں کو منظوری دی اور کانگریس کی ضرورت کو ہٹا دیا۔
واضح رہے کہ ہتھیاروں کے یہ سودے اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا سودا قطر کے ساتھ ہے، جس 4.01 ارب ڈالر (تقریباً 38059 کروڑ روپے) کے پیٹریاٹ ایئر اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ قطر کو 992.4 ملین ڈالر (تقریباً 9417 کروڑ روپے) کے ایڈوانسڈ پریسیزن کِل ویپن سسٹم (اے پی کے ڈبلیو ایس) بھی ملیں گے۔
کویت کو 2.5 ارب ڈالر (تقریباً 23728 کروڑ روپے) کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ اسرائیل کو بھی 992.4 ملین ڈالر (تقریباً 9417 کروڑ روپے) کے اے پی کے ڈبلیو ایس ہتھیار ملیں گے۔ جبکہ یو اے ای کے لیے 147.6 ملین ڈالر (تقریباً 1401 کروڑ روپے) کے اے پی کے ڈبلیو ایس سسٹم کی منظوری دی گئی ہے۔ ان ہتھیاروں کی سپلائی میں بی اے ای سسٹمز، لاک ہیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس کارپوریشن اور نارتھروپ گرومین جیسی بڑی دفاعی کمپنیاں شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ ٹکراؤ جاری ہے۔ یہ تنازعہ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک میں اقلیتوں، صحافیوں، مزدوروں اور ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود امریکہ کا موقف ہے کہ یہ دفاعی سودے خطے کی سلامتی کے لیے ضروری ہیں۔ امریکہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔