اڈپی، 25/ اکتوبر (ایس او نیوز) ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے خلاف سہ بھاوی تنظیم اور مختلف ہم خیال تنظیموں کے زیر اہتمام اڈپی میں ’گاؤں گاؤں جنتر منتر‘ کے نام سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے کلاک ٹاور سے جودو کٹے تک پیدل مارچ کیا اور وہاں اجتماع منعقد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر کا عمل فوری طور پر منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ترجمان بھاویہ نرسمہا مورتی نے الزام لگایا کہ 2014 سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت جھوٹے وعدوں کے ذریعے اقتدار حاصل کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اور نوجوانوں کو ہر سال 2 کروڑ روزگار فراہم کرنے کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں شکست کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھائے۔
بھاویہ نرسمہا مورتی نے مزید کہا کہ دلتوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف ماضی میں ہونے والے مظالم کا جواب اب نوجوان نسل جمہوری طریقے سے دے رہی ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں شفافیت اور عوام کے جمہوری حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔

سابق وزیر ونئے کمار سورکے نے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ ملک کے 13 کروڑ لوگوں کے حق رائے دہی کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے دور رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کے ووٹ دینے کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
ونئے کمار سورکے نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کا عمل فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابی عمل کے دوران ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
احتجاج میں سہ بھاوی تنظیم کے فنی راج، سندر ماسٹر، رمیش کنچن، پرساد راج کنچن، ہری پرساد رائے، ہریش کِنی، اسماعیل کوڈی بینگرے، پرشانت جتن، ناگیش کمار ادیاور سمیت مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔