ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / داونگیرے ضمنی انتخاب: مسلم ٹکٹ تنازع پر کانگریس میں ہلچل، اندرونی اختلافات شدت اختیار، ضمیر احمد کی وضاحت

داونگیرے ضمنی انتخاب: مسلم ٹکٹ تنازع پر کانگریس میں ہلچل، اندرونی اختلافات شدت اختیار، ضمیر احمد کی وضاحت

Wed, 15 Apr 2026 08:13:03    S O News
داونگیرے ضمنی انتخاب: مسلم ٹکٹ تنازع پر کانگریس میں ہلچل، اندرونی اختلافات شدت اختیار، ضمیر احمد کی وضاحت

بنگلورو، 15 اپریل (ایس او نیوز):کرناٹک کے وزیر برائے اقلیتی امور، وقف اور ہاؤسنگ بی زیڈ ضمیر احمد خان نے کہا ہے کہ داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقے میں مسلم برادری کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر انہوں نے کوئی بات نہیں چھپائی، بلکہ پارٹی میٹنگ میں کھل کر یہ مطالبہ رکھا تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی ایک امیدوار کا نام تجویز نہیں کیا، تاہم اگر عبدالجبار کو ٹکٹ دینا ممکن نہ ہو تو دیگر مسلم امیدواروں میں سے کسی ایک کو موقع دینے کی بات رکھی گئی تھی۔

عبدالجبار کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (KPCC) کے اقلیتی شعبہ کے صدر اور قانون ساز کونسل (MLC) کے رکن ہیں۔ داونگیرے ساؤتھ ضمنی انتخاب میں مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پارٹی قیادت نے اقلیتی لیڈروں کو نظر انداز کیا اور فیصلے مشاورت کے بغیر کیے گئے، جس سے شدید ناراضگی پیدا ہوئی۔

داونگیرے ساؤتھ ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی کے خلاف مبینہ سرگرمیوں اور مسلم ناراضگی کو سنبھالنے میں ناکامی کے باعث بعد میں وزیر اعلیٰ سدرامیا کے سیاسی سکریٹری اور ایم ایل سی نصیر احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اسی تناظر میں عبدالجبار کے استعفیٰ اور نصیر احمد کی برطرفی کو پارٹی کی جانب سے “نقصان دہ بغاوت” پر کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ضمیر احمد خان نے کہا کہ وہ مسلم برادری کے کوئی “سپریم لیڈر” نہیں بلکہ صرف کانگریس کے ایک کارکن ہیں، اور ٹکٹ کا حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کا اختیار ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹکٹ کے معاملے پر مسلم برادری میں ناراضگی ضرور تھی، تاہم بعد میں سب نے پارٹی امیدوار کی حمایت کی۔ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی الزام لگاتا ہے تو اسے نام بھی بتانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں اس طرح کی سازشیں عام بات ہیں اور ہر شخص اپنی کوشش کرتا ہے، تاہم کسی بھی امیدوار کی کامیابی پر انہیں خوشی ہوگی۔

واضح رہے کہ داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب 9 اپریل 2026 کو منعقد ہوچکا ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 مئی کو متوقع ہے۔ یہ حلقہ مسلم ووٹروں کے لحاظ سے انتہائی اہم مانا جاتا ہے، جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 40 فیصد سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اسی بنا پر مسلم لیڈروں اور تنظیموں نے کانگریس سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے باعث ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر پارٹی کے اندر خاصی کھینچا تانی دیکھی گئی۔

رپورٹس کے مطابق اس بات کی توقع بھی کی جا رہی تھی کہ پارٹی اس بار مسلم امیدوار کو موقع دے گی، تاہم آخرکار کانگریس نے لنگایت طبقہ سے تعلق رکھنے والے امیدوار سمرتھ شمانور کو ٹکٹ دیا۔ اس فیصلے کے خلاف مسلم قیادت میں ناراضگی کھل کر سامنے آئی، جس کے نتیجے میں عبدالجبار کے استعفیٰ اور نصیر احمد کی برطرفی جیسے واقعات پیش آئے۔ تاہم میڈیا رپورٹوں کے مطابق انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں پارٹی قیادت کی مداخلت کے بعد زیادہ تر ناراض لیڈروں نے باضابطہ طور پر کانگریس امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا۔

موجودہ صورتحال میں اگرچہ مسلم ووٹروں کے ایک طبقے میں ناراضگی برقرار بتائی جا رہی ہے، لیکن کانگریس کو اب بھی حلقے میں مضبوط دعویدار تصور کیا جا رہا ہے اور قریبی مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔


Share: