ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں گرام پنچایتوں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کا فیصلہ، عوامی تجاویز کو ریاستی بجٹ میں شامل کرنے پر زور

کرناٹک میں گرام پنچایتوں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کا فیصلہ، عوامی تجاویز کو ریاستی بجٹ میں شامل کرنے پر زور

Thu, 15 Oct 2026 12:27:45    S O News

بنگلورو، 15/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ دیہی پنچایتوں کی مالی حالت بہتر بناکر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی خود حکمرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ عوام کی بنیادی سطح سے موصول ہونے والی ضروریات اور تجاویز کو ریاستی بجٹ کی منصوبہ بندی میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

وزیر اعلیٰ نے بدھ کو بنگلورو میں واقع سرکاری رہائش گاہ کرشنا میں کرناٹک اسٹیٹ ڈی سینٹرلائزیشن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچویں ریاستی مالیاتی کمیشن کی مالی وسائل کی تقسیم اور انتظامی اصلاحات سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد کے لیے وزیر برائے دیہی ترقیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی قابلِ عمل سفارشات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ پانچویں ریاستی مالیاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گرام پنچایتوں کو مجموعی طور پر 1,261 کروڑ روپئے، تعلقہ پنچایتوں کو 557 کروڑ روپئے اور ضلع پنچایتوں کو 183 کروڑ روپئے جاری کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئین کی 74ویں ترمیم کے مقاصد کے مطابق شہری مقامی اداروں کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں قوانین میں مناسب ترامیم کے لیے نیشنل لا اسکول کے ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گرام سبھا کی طرز پر شہری علاقوں میں وارڈ سبھاؤں کے ذریعے ترقیاتی منصوبے تیار کیے جائیں اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔

انہوں نے ضلع، تعلقہ اور گرام سطح پر قائم منصوبہ بندی کمیٹیوں کو ہر تین ماہ میں لازمی طور پر اجلاس منعقد کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاستی بجٹ میں نچلی سطح سے عوام کی ضروریات اور تجاویز حاصل کرکے انہیں بجٹ میں شامل کرنے کے مقصد سے ’عوامی منصوبہ بندی‘ (جنر یوجنے) کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے محکمۂ دیہی ترقیات اور محکمۂ شہری ترقیات کو مناسب رہنما اصول جاری کرنے اور ضروری سافٹ ویئر تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

انہوں نے ضلع اور تعلقہ سطح پر منصوبہ بندی کے انتظامی یونٹس قائم کرنے کے لیے ضروری فنڈز فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ گرام پنچایت، تعلقہ پنچایت اور ضلع پنچایت سے متعلق مختلف سرکاری پروگراموں کے نفاذ میں محکموں کی ذمہ داریوں کا واضح خاکہ تیار کرنے کی ہدایت دی، تاکہ مقررہ مدت میں منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیہی اور شہری مقامی اداروں کو اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں حصہ فراہم کرنے کی تجویز جی ایس ٹی کونسل کے سامنے پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کرناٹک پنچایت انتظامی خدمات شروع کرنے کی تجویز بھی متعلقہ وزیر سے حاصل کرنے کی بات کہی۔

انہوں نے گرام ٹھانہ کی حدود کے تعین کا کام تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے سوامیتوا اسکیم کے اعداد و شمار سے استفادہ کیا جائے اور محکمۂ پنچایت راج و محکمۂ مال باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں۔

اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ صنعتی اداروں پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار گرام پنچایتوں سے کرناٹک انڈسٹریل ایریاز ڈیولپمنٹ بورڈ (کے آئی اے ڈی بی) کو منتقل کیے جانے کے باعث پنچایتوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے حکام کو ہدایت دی کہ متعلقہ قانون کے تحت صنعتی ترقیاتی ادارے کی جانب سے جمع کیے گئے پراپرٹی ٹیکس کا 30 فیصد حصہ گرام پنچایتوں کو فراہم کرنے کی گنجائش کے پیش نظر، اب تک وصول کیے گئے ٹیکس اور پنچایتوں میں تقسیم کی گئی رقم کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں، تاکہ پنچایتوں کے مالی وسائل کے معاملے میں ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔


Share: