اسلام آباد/تہران/واشنگٹن/تل ابیب، 12 اپریل (ایس او نیوز) — امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور وسیع تر امن معاہدے کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم اور طویل مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والی یہ براہ راست بات چیت حالیہ برسوں کی ایک بڑی سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی تھی، تاہم بنیادی اختلافات کے باعث معاہدہ ممکن نہ ہو سکا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل کہا کہ امریکہ “خالی ہاتھ واپس جا رہا ہے”۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے نیک نیتی کے ساتھ ایک “حتمی اور بہترین پیشکش” دی تھی، جس میں ایران سے واضح طور پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے اور اس کی صلاحیت حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی طلب کی گئی تھی، تاہم تہران نے اس بنیادی شرط کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی پیشکش تاحال برقرار ہے، مگر اس میں مزید نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر شدید اختلاف، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور خطے میں اثر و رسوخ سے متعلق متضاد مفادات شامل ہیں۔ ایران نے اسرائیل کی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو بھی جنگ بندی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا، جبکہ ایرانی میڈیا نے امریکی شرائط کو “غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد خطے میں عسکری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک نے صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ممکنہ کشیدگی کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سیکیورٹی الرٹ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
عالمی طاقتوں کے ردعمل میں روس نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے، جبکہ چین نے خودمختاری کے احترام اور یکطرفہ فوجی اقدامات سے گریز کی اپیل کی۔ دوسری جانب شمالی کوریا نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران کے مؤقف کی حمایت کی ۔
تازہ پیش رفت کے طور پر عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل دیکھی گئی ہے، جہاں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر برینٹ کروڈ 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بڑھاتے ہوئے تجارتی جہازوں کے لیے وارننگ زون قائم کر دیا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اس دوران اسرائیل-لبنان محاذ پر بھی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں حملوں میں شدت لاتے ہوئے بیروت کے شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جبکہ لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 380 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے ردعمل میں ایران نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر حملے نہ رکے تو وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کرنے میں آزاد ہوگا۔
واشنگٹن میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی ہے، جس کے بعد پینٹاگون کو فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی بحری بیڑا، بشمول یوایس ایس ابراہم لنکن ، بحیرہ عرب میں الرٹ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں ایرانی اعلیٰ عسکری قیادت بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈر، دفاعی کونسل کے اعلیٰ ارکان، سینئر انٹیلی جنس حکام اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کے اہم افسران کو شہید کردیا گیا تھا اور ایران کی بڑی عسکری و سکیورٹی قیادت کو ایک ساتھ نشانہ بنایا گیا تھا۔لیکن تہران سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق، ایران کی نئی فوجی قیادت نے "خون کا بدلہ خون" کی پالیسی اپنائی اور وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو "شہداء کی توہین" قرار دیتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی مفادات پر حملے تیز کر دیے اور آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ۔ اس دوران ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ممکنہ اقدامات کے انتباہات دیے، ٹرمپ نے یہاں کہہ دیا کہ وہ ایران کو پتھروں کے دور میں پہنچادیں گے۔ انہی کشیدہ حالات کے پیش نظر سفارتی کوششوں کے تحت اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد کیا گیا تھا، جو اب ناکامی پر ختم ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال تیزی سے ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خلیجی ممالک کے براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں، جبکہ عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں پس پردہ سفارت کاری کامیاب نہ ہوئی تو مشرق وسطیٰ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
تازہ ترین پیش رفت:
مذاکرات کی ناکامی کے بعد، رپورٹ فائل کیے جانے تک صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر فوری بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی بحریہ کو جہازوں کی آمد و رفت محدود کرنے اور ایرانی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور فوجی جواب دیا جائے گا، جبکہ امریکی افواج کو “مکمل طور پر تیار” قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ ادھر خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یورپی یونین سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔