نئی دہلی ، 3/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)ہندوستان نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ملک گیر سطح پر موبائل پر مبنی آفات مواصلاتی نظام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ہفتہ کے روز اس نظام کے آغاز کے موقع پر شہریوں کے موبائل فونز پر ’ایکسٹریملی سیویئر الرٹ‘ (انتہائی سنگین انتباہ) کا ایک آزمائشی پیغام موصول ہوا۔ یہ دراصل دیسی سیل براڈکاسٹ سسٹم کا ملک گیر تجربہ ہے، جس کا مقصد آفات سے متعلق الرٹ کی فوری اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت کی جانب سے ہفتہ کو ایک ٹیسٹ الرٹ جاری کیا گیا۔
یہ الرٹ ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت بھیجا گیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہندوستان نے دیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے سیل براڈکاسٹ سروس شروع کی ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو آفات کی فوری اطلاع فراہم کی جا سکے گی۔ چوکس شہری، محفوظ قوم۔ اس پیغام کے موصول ہونے پر کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ محض ایک آزمائشی پیغام ہے۔‘‘ یہ موبائل پر مبنی آفات مواصلاتی نظام وزارت مواصلات کے محکمۂ ٹیلی مواصلات نے حکومت ہند کی قومی آفات نظم و نسق اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے تیار کیا ہے تاکہ اہم معلومات بروقت عوام تک پہنچائی جا سکیں۔
وزارتِ مواصلات کے مطابق، یہ نظام بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین کی تجویز کردہ کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) پر مبنی ہے۔ اس وقت یہ نظام ملک کی تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال ہے اور جغرافیائی بنیاد پر مخصوص علاقوں میں موبائل صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے آفات اور ہنگامی صورتحال سے متعلق انتباہات یعنی الرٹ فراہم کرتا ہے۔
آفات نظم و نسق کے حکام اس نظام کو وسیع پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں، جس کے تحت اب تک قدرتی آفات، موسمی انتباہات اور سمندری طوفانوں کے دوران 19 سے زائد ہندوستانی زبانوں میں 134 ارب سے زیادہ ایس ایم ایس الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، سنامی، زلزلہ، آسمانی بجلی گرنے، گیس کے اخراج یا کیمیائی خطرات جیسی ہنگامی اور وقت کے لحاظ سے حساس صورتحال میں فوری اطلاع رسانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سیل براڈکاسٹ (سی بی) ٹیکنالوجی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
سیل براڈکاسٹ سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعہ کسی مخصوص جغرافیائی علاقے میں موجود تمام موبائل فون کو بیک وقت الرٹس بھیجے جا سکتے ہیں، جس سے تقریباً حقیقی وقت میں اطلاع کی ترسیل ممکن ہو جاتی ہے۔ اس جدید دیسی نظام کی تیاری اور نفاذ کی ذمہ داری محکمۂ ٹیلی مواصلات کے اہم تحقیقی و ترقیاتی ادارے ’سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس‘ (سی-ڈاٹ) کو سونپی گئی ہے۔