ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریہ سلے کا بڑا اعلان: بارامتی میں ’پوار بمقابلہ پوار‘ مقابلہ نہیں ہوگا، مہایوتی نے خیرمقدم کیا

سپریہ سلے کا بڑا اعلان: بارامتی میں ’پوار بمقابلہ پوار‘ مقابلہ نہیں ہوگا، مہایوتی نے خیرمقدم کیا

Sun, 03 May 2026 11:05:03    S O News

ممبئی ، 3/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد ) کی رکن پارلیمان سپریا سلے نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ بارامتی سے اس صورت میں الیکشن نہیں لڑیں گی کہ انہیں اپنے ہی خاندان کے کسی فرد کے خلاف میدان میں اترنا پڑے۔ ان کے اس بیان کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں نئی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک روز قبل سپریا سلے نے کہا کہ’’ میں مستقبل میں کسی بھی صورت اپنے خاندان کے کسی فرد کے خلاف انتخابی مقابلہ نہیں کرنا چاہتی۔ گزشتہ انتخابات میں بھی میں بارامتی سے ( سونیترا پوار کے خلاف)الیکشن لڑنے کیلئے آمادہ نہیں تھی، تاہم اس وقت حالات مختلف تھے اور مجھے الیکشن لڑنا پڑا۔‘‘

یاد رہے کہ این سی پی کے دوٹکڑے ہونے کے بعد ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا الیکشن میں سپریہ سلے کے خلاف بارامتی سے اجیت پوار نے اپنی اہلیہ سونیترا پوار کو اتارا تھا۔ سپریہ سلے نے انہیں تقریباً ۷۰؍ ہزار ووٹوں سے شکست دیدی تھی۔ این سی پی (شرد) کی کارگزار صدر اسی واقعے کے پس منظرمیں بات کر رہی تھیں۔ حالانکہ بارامتی کی لوک سبھا سیٹ روایتی طور پر ان کے والد شرد پوار اس کے بعد خود سپریہ سلے کی رہی ہے۔ سلے نے واضح کیا کہ ’’ میں کسی دوسرے حلقے سے الیکشن لڑنے پر غور کروں گی لیکن اگر خاندان کا کوئی اور فرد بارامتی سے انتخاب لڑنا چاہتا ہے تو وہ اس کیلئے آزاد ہے، لیکن میں اپنے ہی خاندان کے خلاف الیکشن نہیں لڑوں گی۔‘‘سپریاسلے نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود پوار خاندان پوری طرح متحد ہے اور وہ یہ یقینی بنائیں گی کہ سال ۲۰۲۹ءکے لوک سبھا انتخابات میں ’پوار بنام پوار‘ جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔

اس دوران مہایوتی کے لیڈران نے سپریہ سلے کے اس بیان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ شیوسینا (شندے) تعلق رکھنے والے مہاراشٹر کے وزیر صنعت اُودے سامنت نے سپریہ سلے کے اس موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اور حساس فیصلہ قرار دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی وجہ سے خاندانی اختلافات کو مزید گہرا نہیں ہونا چاہئے۔ دونوں پارٹیاں ( شرد پوار گروپ اور اجیت پوار گروپ) آخرکار پوار خاندان کا ہی حصہ ہیں۔اسی طرح بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ریاست کے سینئر وزیر چندرکانت پاٹل نے بھی سپریا سلے کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستانی ثقافت ہمیں سکھاتی ہے کہ ذاتی مفادات سے بڑھ کر خاندانی اقدار کو اہمیت دی جائے۔ ‘‘انہوں نے اس فیصلے پر انہیں مبارکباد پیش کی کہ وہ آئندہ بارامتی سے خاندان کے کسی فرد کے خلاف انتخاب نہیں لڑیں گی۔

یاد رہے کہ جہاں لوک سبھا الیکشن میں سونیتراپوار نے بارامتی سے سپریہ سلے کے خلاف الیکشن لڑا تھا وہیں اسی نام کی اسمبلی سیٹ سے اجیت پوار کے سامنے شرد پوار کے پوتے یوگیندر پوار ( جو اجیت پوار کے بھتیجے ہیں ) نے قسمت آزمائی تھی مگر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حال ہی میں ہوئی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں مہا وکاس اگھاڑی بارامتی سے سونیترا پوار کے سامنے اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتی تھی لیکن سپریہ سلے کی تگ ودو کے بعد اس فیصلے کو تبدیل کیا گیا۔ 


Share: